یہ بات حیرت انگیز ضرور ہے، لیکن سچ ہے کہ راجستھان کے تین گاؤں ایسے ہیں جہاں لڑکیوں کی شادی ممنوع ہے۔ یہ پابندی حکومت کی طرف سے نہیں ہے، بلکہ پنچ پٹیلوں کے فرمان نے ان گاؤں میں دہشت پھیلا رکھی ہے۔ یہ تینوں گاؤں دبلانا شنکرپورہ، رام نگر اور اندرگڑھ موہن پورہ ہیں۔ یہاں کنجر سماج کی لڑکیوں کی شادی پنچ پٹیل نہیں ہونے دیتے اور انھیں جسم فروشی کے لیے مجبور کرتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اگر کنجر سماج کا کوئی شخص اپنی بیٹی کی شادی کرنا چاہتا ہے تو پنچ پٹیل لاکھوں روپے کی پنالٹی یعنی جرمانہ لگاتے ہیں۔
حالانکہ حالات میں دھیرے دھیرے تبدیلی آ رہی ہے۔ پنچ پٹیل کے برے رواجوں کو دور کرنے کے لیے بوندی ضلع کلکٹر رینو جے پال نے ’آپریشن اسمیتا‘ شروع کی ہے۔ اس کے تحت جسم فروشی کے لیے مجبور کی جانے والی کچھ لڑکیوں کی شادی ان کے پسند والے لڑکوں کے ساتھ کرائی بھی گئی ہے۔ لیکن اب بھی کئی لڑکیاں ہیں جو پنچ پٹیل کے فرمان کا شکار ہیں اور اپنی غریبی کے سبب نہ چاہتے ہوئے بھی گناہ میں مبتلا ہیں۔
ایک رپورٹ کے مطابق بوندی (راجستھان) میں اب تک 4-3 کنجر لڑکیوں کی شادیاں ضلع انتظامیہ کی موجودگی میں کرائی گئی ہیں۔ ضلع کلکٹر رینو جے پال کا کہنا ہے کہ ’آپریشن اسمیتا‘ کے ذریعہ زیادہ سے زیادہ شادی کرانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ ضلع انتظامیہ نے اجتماعی شادی کا بھی منصوبہ بنایا ہے تاکہ پنچ پٹیلوں پر نکیل کسی جا سکے۔