آپ جب بھی کوئی پیکٹ بند سامان خریدتے ہیں تو اس پر ’ایم آر پی‘ یعنی میکسیمم ریٹیل پرائس ضرور لکھی ہوتی ہے۔ بہت جلد پیکٹ پر اس ایم آر پی کے ساتھ ایک اور پرائس لکھی نظر آنے والی ہے۔ دراصل مرکزی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اب ہر پیکٹ پر ’یونٹ پرائس‘ بھی ضرور لکھی جائے۔ گویا کہ اگر آپ نے 5 کلوگرام کے آٹے کا پیکٹ خریدا، تو اس پر ایک کلوگرام آٹے کی بھی قیمت لکھی جائے گی۔ یہ نیا قانون یکم اپریل 2022 سے نافذ ہونے جا رہا ہے۔

میڈیا ذرائع کے مطابق وزارت برائے خوراک صارف نے اس کے لیے لیگل میٹرولوجی (پیکیجڈ کموڈیٹیز) رولس، 2011 میں ترمیم کی ہے۔ جب پیکٹ پر یونٹ پرائس لکھی ہوگی تو گاہکوں کو فی یونٹ قیمت کی جانکاری آسانی سے مل پائے گی۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ اگر کوئی پیکٹ ایک کلوگرام سے کم کا ہے تو اس پر فی گرام کے مطابق یونٹ پرائس لکھی جائے گی۔

بتایا جاتا ہے کہ کمپنیاں الگ الگ مقدار میں پیکٹ بند سامان فروخت کرنا چاہتی ہیں۔ اس کے لیے انھوں نے وزارت سے اجازت طلب کی تھی۔ کمپنیوں کے کچھ مطالبات تسلیم کر لیے گئے ہیں، جب کہ کچھ کو مسترد کر دیا گیا۔ مثلاً چاول یا گیہوں کے آٹے کو پہلے 100 گرام، 200 گرام، 500 گرام، ایک کلوگرام، 1.25 کلوگرام، 1.5 کلوگرام وغیرہ وزن کے ساتھ پیک کرنا ضروری تھا۔ اب اس میں مزید کئی وزن کے پیکٹ کو شامل کیا گیا ہے۔